SHAADI

 شادی


شام کے کہانے کے بعد اپنے کمرے کا دروازہ ‌جوں ہی بند کیا ،دوسرے کمرے سے  موبائل فون کے لوڈ سپیکر پر چھوٹی کزن کی پرجوش تقریر  سنائی دی ۔شادی ،عمر اور مزید مستقبل کی باتیں اس پر اعتماد طریقے سے کررہی تھی جیسے تقدیر  کی  آخری قلم کی مالک ہو۔  آخر کب کروگے شادی بیٹی کی ،عمر نکلی جارہی ہے۔میری ڈی او بی کا ذکر چھڑا،میری مزید تعلیم شادی کے بعد پوری کرنے کا فیصلہ   ہوا ۔ ادھر میرے ڑرسنگ ٹیبل پر رکھی ہوئی کتابیں تھیں ،اپنے خوابوں سے سجایی  ہوی خوبصورت دنیا ۔ادھر میرا پسندیدہ لڈکا بےروزگار۔وہاں انسٹا اور فیس بک پر میرے بیچارے عاشوں کی قطار ۔
"تایا جان آپ کو بھی رٹییر ہوے دو سال ہوگئے ۔پھر کب کریں گے شادی،کمزور ہوگئے ہیں آپ "

اس نے چوتھی مرتبہ دہرایا ۔

میرے زنانہ دماغ میں خیالات کا اتنا بڑا ہجوم تھا جتنے ایس ایس بی کے امیدوار (جن میں میرا بے روزگار مرد بھی شامل ہے)۔
آخر بایس سال کی عمر میں شادی کے سوا کچھ نیہں ہے ؟ کیا زندگی صرف شادی ہے ؟اسکے ماورا کچھ نہیں ،کیا میرے خوابوں کا کوئی مطلب نہیں ؟ یہ وہ سوال تھے جن کو خالہ اور فوفو جان کے حکیمانہ دماغ خشک کتابی فلسفہ کہ کے ٹال دیتی ہیں۔

اس پریشانی کے عالم میں ،لاشعوری میں انسٹا اسکور کرنا شروع کیا ،وہاں کشمیر کی ایک بدبخت لڑکی  کا رییل دیکھا جس  نے دین چھوڑ کر بیرونی ریاست کے لڑکے سے شادی کی ۔خود پے تھوڑا سا فخر محسوس ہوا اور دل میں شکر کے جزبات ابھر آیے کہ اللہ میاں سے اتنے بھی دور نہیں ہم ۔ آخر دین ہی تو سب سے بڑی نعمت ہے ۔

رییل میری شادی شدہ سہیلی کی فون کال کے نیچے دب گیا اس سے پہلے شادی کااپنی شادی کا ذکر کروں، پوری قومِ نسواں کی ٹکزسٹی کی خوفناک تاریخ مثالیں دے دے‌ پیش کی-
ارے بہن میں کیا کیا کہوں ۔زندگی تو کنورای ہی بہتر ہے ۔میں اپنی ساس مثل دوزخ پیشان ہو۔وہ تو ساجد پر جادو ٹونا کرتی ہے ۔پیار تو بہت کرتے ہیں ہر ہفتے اوٹینگ اور شاپنگ پے لے جاتے ہیں وہ دفتر یہ آجکل دیر سے آنے لگے ہیں -۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طویل دستانِ دردِ شادی لیبر پین کی طرح بیان کی جارہی تھی۔اور ہمیں شادی کا مذید خوف ہونے لگا۔

رات گیے پڈوس میں رہنے والی طلاق شدہ عورت کی بیمار بچی بلک بلک کے رو رہی تھی۔ ایک سال پہلے اسکے شوہر کی درندگی کا منظر آنکھوں کے سامنے آیا۔
اب اور کیا باقی تھا ؟لیکن تقدیر ہماری بےبسی کا نامِ ثانی.



 اسی اثناء چار مہینوں بعد میرے لاکھ منع کرنے کے باوجود میری ارینج میرج مجھ سے آٹھ سال بڑے اور بےبال سرکاری ملازم سے ہوگیی ،جیسے میرے شوہر نے میرا گھونگٹ ہٹایا -باہر فجر کی اذان سے اوپر والے سارے نیٹمیر کا خاتمہ ہوا ،میرا جسم کانپ رہا تھا،ہاتھ تھرتھرا رہے تھے اورلباس پسینہ پسینہ ہوگیا تھا۔رندگی کے سارے مسائل حل کرنے کی صدا حی علی الفلاح آگی تھی اور میں رندگی کے نیے سورج اور صبح امید کے لے پر آمید۔ہوایں اور پرندے بھی بہر سے تواکل کے گیت گاتے رہ گئے !

Comments

Popular posts from this blog

Luminous intellect of a sidelined genius

My Personal Recollections of Moulana Noor Ahmad Trali(r.a)